حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مترجم و مفسر قرآن مرحوم علامہ مولانا سید فرمان علی اعلی اللہ مقامہ کی علمی و دینی خدمات اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کے لیے منعقدہ کانفرنس کے سلسلے میں جاری اپنے تاثرات میں مدیر شعور ولایت فاؤنڈیشن حجۃ الاسلام مولانا سید شاہد جمال رضوی قمی گوپالپوری نے مدرسہ سلیمانیہ پٹنہ کی تاریخ، اس کے قیام اور ترقی میں علامہ فرمان علیؒ کے کردار کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر مدرسہ سلیمانیہ کی تاریخ پر مولانا شیخ ابن حسن املوی کی مرتب کردہ کتاب کو نئی نسلوں کے لیے ایک اہم تاریخی اور تحقیقی دستاویز قرار دیا ہے۔
تاثرات:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دینی مدارس اسلام کے محکم قلعے، ہدایت کے سر چشمے، امن و آشتی کے گہوارے، دین کی پناہ گاہیں اور اشاعت مذہب و ملت کا بہترین اور مؤثر ذریعہ ہیں، ان دینی مدارس نے ہر دور میں تمام تر مصائب و مشکلات، پابندیوں اور مخالفتوں کے باوجود کسی نہ کسی صورت اور شکل میں اپنا وجود اور مقام برقرار رکھتے ہوئے اسلام ناب محمدی ؐ کے تحفظ اور اس کی بقاء میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
دینی مدارس کی اسی اہمیت و افادیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے شہر عظیم آباد (پٹنہ) میں وہاں کے مذہبی کارکن اور رئیس اعظم عزت مآب جناب سید الطاف حسین مرحوم نے شہر اور اطراف و اکناف کی شدید ضرورت کی وجہ سے ۹؍ ربیع الاول ۱۳۲۳ھ ایک مدرسہ کی تاسیس فرمائی اور اس کے پہلے مدرس اعلیٰ (پرنسپل) کا عہدہ قبول کرنے کے لئے علامہ سید فرمان علی اعلی اللہ مقامہ سے خصوصی درخواست کی، چونکہ علامہ فرمان علی مرحوم بھی اس کی تاسیسی تحریک میں کافی حد تک پیش پیش رہے تھے اسی لئے انہوں نے یہ عہدہ بخوشی قبول فرمایا۔
علامہ فرمان علی اعلی اللہ مقامہ کی حیات و خصوصیات کے متعلق دو جلدوں پر مشتمل کتاب ''ترجمان فرقان'' کی تالیف کے دوران مدرسہ ہذا کے متعلق بھی چھان بین کی ضرورت پیش آئی اور بہت سے ابتدائی حالات اصلاح اور دیگر جرائد کے مختلف شماروں سے دستیاب ہوئے، ان تمام شماروں کا سرسری مطالعہ کرنے سے اس بات کا اندازہ ہوا کہ جناب سید الطاف حسین مرحوم نے جس خلوص نیت سے اس مدرسہ کی بنیاد ڈالی تھی، علامہ فرمان علی مرحوم نے اسی خلوص نیت سے اس کی دیکھ بھال کی اور بہت کم مدت میں اس مدرسہ کو ترقی و کامرانی سے ہمکنار کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ مدرسہ سلیمانیہ کی ترقی و کامرانی میں علامہ فرمان علی مرحوم نے دن رات ایک کردیا تھا، وہ صرف ایک مدرس اول یعنی پرنسپل نہیں تھے کہ وقت پر مدرسہ میں حاضر ہوں اور رجسٹر پر اپنا نام ثبت کرکے روز مرہ کی مصروفیتوں میں گم ہوجائیں بلکہ آپ جانتے تھے کہ یہ مدرسہ پورے بہار کی ایک شدید ضرورت ہے اسی لئے آپ رات دن محنت کرکے مدرسہ کو اس مقام پر پہنچانا چاہتے تھے کہ دیکھنے والے دیکھ کر یہ اندازہ کرسکیں کہ جیسی ضرورت محسوس ہورہی تھی وہ پوری ہوگئی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے علمائے کرام یا عمائدین قوم وملت مدرسہ میں آکر انتظام وغیرہ کو نزدیک سے دیکھتے تو اس کی تعریف و توصیف کئے بغیر نہیں رہتے تھے۔
علامہ فرمان علی مرحوم نے اپنی انتہائی کم مدت تدریس میں بڑے برجستہ اور قابل قدر تلامذہ کی تربیت فرمائی جن میں فیلسوف اسلام استاذ الواعظین علامہ سید عدیل اختر زیدی، مولانا سید راحت حسین بھیک پوری، مفسر قرآن مولانا سید حفاظت حسین بھیک پوری، مولانا سید غلام مصطفیٰ گوپال پوری... جیسی اہم اور نمایاں شخصیتیں شامل ہیں۔
ظاہر ہے صوبۂ بہار کے اس نمایاں مدرسہ کا درخشاں ماضی رہا ہے، اس نے ۱۲۳ برسوں پر مشتمل اپنی عمر رواں میں بہت سے نگینوں کو تراش خراش کر قوم و ملت کے سپرد کیا ہے اور دین کی ترویج و اشاعت میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے، آج بھی یہ مدرسہ اپنے طور پر وسیع خدمات انجام دے رہا ہے۔ دو سال قبل علمائے بہار کے قلمی آثار کی جمع آوری اور ان کے حالات زندگی پر مشتمل کتاب لکھنے کا کام چل رہا تھا تو ایک مدت دراز کے بعد مدرسہ سلیمانیہ جانے کا اتفاق ہوا، قریب سے وہاں کا کتب خانہ دیکھا، مخطوطات کی اچھی خاصی تعداد ہے، قدیمی کتابوں کا بھی بہت عمدہ ذخیرہ پایا جاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی تھی کہ ایک صدی پر مشتمل اس مدرسہ کے خدمات کو ایک مستقل کتاب میں قلمبند کیا جائے تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے اس کی تاریخ اور اس کے نشیب و فراز محفوظ ہوجائیں،؛ الحمدللہ یہ کام ہمارے محترم بزرگ عالم واہل قلم، ادیب و صحافی، محقق و مصنف حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا شیخ ابن حسن املوی واعظ دامت برکاتہ نے انجام دیا ہے۔ ہمیں مولف گرامی قدر سے اس بات کی قوی امید ہے کہ انہوں نے کتاب کا خاکہ مرتب کرتے وقت اس مدرسہ کے ماضی اور حال کے تمام اطراف و جوانب اور نشیب و فراز کو ملحوظ رکھا ہوگا، اس لئے کہ انہوں نے اس کتاب کے علاوہ ہندوستان کے بعض شیعہ مدارس کی تاریخ پر بھی متعدد کتابیں تالیف کی ہیں، صرف مدرسۃ الواعظین کی تاریخ تین ضخیم جلدوں میں مرتب کی ہے، اسی طرح جوادیہ عربی کالج (بنارس)، وثیقہ عربی کالج (فیض آباد)، سلطان المدارس لکھنؤ وغیرہ کی تاریخ کو بڑے سلیقے سے مرتب کیا ہے اور علما و عمائدین قوم سے قبولیت کی سند حاصل کی ہے۔
علامہ فرمان علی اعلی اللہ مقامہ کی تاریخ مرتب کرتے وقت مؤلف گرامی قدر سے ٹیلفون پر رابطہ قائم ہوا، چونکہ آپ میرے عزیز دوست مولانا شیخ مسرور فیضی کے والد گرامی ہیں، انہوں نے بتایا کہ والد گرامی بہار کے مدرسہ سلیمانیہ پر کتاب تالیف فرمارہے ہیں، ہم نے ٹیلیفون کیا، دیر تک گفتگو ہوئی، بعض مطالب کا تبادلہ بھی ہوا، اسی گفتگو کے دوران مؤلف نے بتایا کہ مدرسہ سلیمانیہ کی تاریخ کے متعلق تقریباً ۵۰۰ سے زائد صفحات پر مشتمل کتاب آمادہ ہوچکی ہے۔ یہ سن کر بے حد خوشی ہوئی، دل سے دعائیں نکلیں کہ اس کتاب کے ذریعہ بہار کے ایک اہم اور نمایاں مدرسہ کی تاریخ آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ ہوجائے گی۔
راقم السطور کو اس بات کا علم ہے کہ مؤلف نے اس کتاب کی تدوین میں کافی زحمت برداشت کی ہے، اس پیرانہ سالی میں متعدد مرتبہ پٹنہ کا سفر کیا، وہاں سے بہت سے مسودے جمع کئے، مختلف لوگوں سے رابطہ قائم کرکے معلومات جمع کیں جس کے متعلق جتنی قدردانی کی جائے کم ہے۔ اگر چہ یہ کتاب نقش اول ہے لیکن بربنائے اولیت اس کی اہمیت اور دستاویزی حیثیت ہمیشہ برقرار رہے گی، اس کے بعد اس موضوع پر جو رسالہ مرتب ہوگا اس میں اضافات ہوتے رہیں گے اس لئے کہ تحقیق و جستجو کی کوئی منزل، منزل آخر نہیں ہوتی۔
میں خداوندعالم کریم کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ وہ مؤلف گرامی قدر کو اور اس کتاب کے ناشر ''انٹر نیشنل نور مائکرو فلم سینٹر'' ایران کلچر ہاؤس دہلی کو اس عظیم خدمت کا اجر عطا فرمائے اور عام مومنین کو اس کتاب سے استفادہ کرنے کی توفیق دے؛ آمین یا رب العالمین
والسلام
سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری











آپ کا تبصرہ